احمد کا پودا
احمد کو باغبانی بہت پسند تھی۔ ایک دن اس کے استاد نے سب بچوں کو ایک ایک بیج دیا اور کہا: "اسے لگاؤ اور دیکھ بھال کرو۔"
احمد گھر آیا اور باغ میں ایک جگہ کھودی۔ اس نے بیج لگایا، پانی دیا اور انتظار کرنے لگا۔
ایک ہفتہ گزرا، دو ہفتے گزرے — کچھ نہیں اگا۔ احمد مایوس ہونے لگا۔ اس کے دوست بلال نے کہا: "یہ بیج خراب ہے، پھینک دو۔"
لیکن احمد نے ہمت نہیں ہاری۔ وہ روزانہ پانی دیتا رہا۔
تیسرے ہفتے ایک چھوٹی سی سبز پتی زمین سے نکلی۔ احمد بہت خوش ہوا۔ اس نے دوڑ کر ماں کو بتایا۔
مہینے بعد وہ پودا ایک چھوٹا درخت بن گیا۔ استاد نے کلاس میں احمد کی تعریف کی اور کہا: "احمد نے صبر اور محنت سے کام لیا۔"
سبق: صبر اور مسلسل کوشش سے ہر کام پورا ہوتا ہے۔
یہ کہانی احمد نامی ایک محنتی اور صابر بچے کی ہے جسے باغبانی کا شوق تھا۔ اس کے استاد نے بچوں کو ایک ایک بیج دیا تاکہ وہ اسے لگا کر اس کی دیکھ بھال کریں۔ احمد نے بیج کو باغ میں لگایا اور روزانہ پانی دیتا رہا۔ کئی ہفتوں تک کوئی پودا نہ اگنے پر اس کے دوست نے اسے بیج پھینک دینے کا مشورہ دیا، لیکن احمد نے ہمت نہ ہاری اور اپنی کوشش جاری رکھی۔ آخرکار اس کی محنت رنگ لائی اور زمین سے ایک ننھی سبز پتی نمودار ہوئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ وہ پودا ایک خوبصورت چھوٹے درخت میں تبدیل ہو گیا۔ استاد نے احمد کی ثابت قدمی
✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف
## شخصیت، ادبی سفر اور شعری خدمات
منتظم عاصی کا شمار ان اہلِ قلم میں ہوتا ہے جنہوں نے شعر و ادب کی دنیا میں کسی باقاعدہ ادبی ادارے یا رسمی تربیتی سلسلے کے سہارے کے بجائے اپنے شوق، مطالعے، مسلسل مشق، اساتذہ کی رہنمائی اور غیر معمولی جنونِ سخن کے ذریعے اپنا راستہ بنایا۔ ان کا ادبی سفر محض شاعری تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ایسے شخص کی داستان ہے جس نے زندگی کے مختلف نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے اپنے اندر …




ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!