اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
نثری نظم

میں خود کشی نہیں کروں گی

میں خود کشی نہیں کروں گی
ارم رحمٰن
ارم رحمٰن پیر، 25 مئی 2026
👁 53 ❤️ 0

میری آنکھیں نوحہ لکھیں گی
میرے آنسوؤں کے قلم سے
میری روح سنگ مرمر کی مانند
سرد اور بے جان ہو جائے گی
مگر میں
خودکشی نہیں کروں گی
مجھے موت سے محبت ہے
مر کے تو ہر بھوک مٹ جاتی ہے
ہر ہوس چھٹ جاتی ہے
میں دیکھتی ہوں جب مامتا کسی میں
نجانے کیوں میری
کوکھ مجھ میں سمٹ جاتی ہے
میرے ہاتھ خالی ہیں
میرا ہر مسام سوالی ہے
بے رحم آنکھوں سے نکلتی چنگاریاں
میرے وجود کو جلا کر بھسم کردیں گی
بھوکے بھیڑیوں کی نگاہیں
مجھے اندر ہی اندر ختم کردیں گی
مگر میں
خودکشی نہیں کروں گی
میں آنکھ بند کرکے جی لوں گی
سب سن کر خاموش رہ لوں گی
اپنے ہونٹ سی لوں گی
میری چیخ
میرے سینے میں ہی دم توڑ دیے گی
میرے اپنوں کی بے حسی میرا
ساتھ چھوڑ دے گی
اندھیرے راہ میں بھٹکنے کے لیے میرا ہاتھ چھوڑ دے گی
ان کی کٹھورتا کا دکھ سہہ لوں گی
بند دیواروں سے سب کہہ لوں گی
مگر میں
خودکشی نہیں کروں گی
اپنی زیست کی ساری گھٹن
اپنے خون میں اتار لوں گی
گھونٹ گھونٹ
نگل کر
یکدم قے کی صورت اگال دوں گی
میری ہی الٹیوں سے
میرا سانس رک سکتا ہے
میرا سر ایک طرف جھک سکتا ہے
اگر اگلا سانس نہ آئے
تو حادثہ سمجھ لینا
کوئی سانحہ سمجھ لینا
مگر یاد رکھنا
میں خودکشی نہیں کروں گی
اگر تمھیں اچانک
میرے مرنے کی خبر آئے
تو جان لینا
کہ کوئی
میرا کلیجہ چباگیا ہوگا
جگر چھلنی ہوگیا ہوگا
دل ناتواں پھٹ گیا ہوگا
کڑوے کسیلے لہجوں کا زہر
میری رگوں میں اتر گیا ہوگا
مگر یاد رکھنا
میں کبھی خودکشی نہیں کروں گی

📖 Summary

یہ نظم ایک ایسی عورت کی داخلی کرب، گھٹن اور خاموش اذیت کی داستان ہے جو زندگی کے بے رحم رویّوں، سماجی جبر، اور اپنے ہی لوگوں کی بے حسی کا شکار ہے۔ وہ ہر طرح کی تکلیف، ذلت اور ذہنی اذیت سہہ رہی ہے، مگر اس کے باوجود خودکشی کو رد کرتی ہے۔ اس کے الفاظ میں ایک عجیب تضاد ہے—وہ جینا بھی چاہتی ہے اور مرنے کی آرزو بھی رکھتی ہے، مگر خودکشی نہیں کرنا چاہتی کیونکہ وہ جانتی ہے کہ اس کی موت دراصل حالات، لوگوں کے رویّوں اور معاشرتی ظلم کا نتیجہ ہوگی، نہ کہ اس کا اپنا انتخاب۔

نظم میں عورت کی محرومی، ممتا کی ت

✍️ ارم رحمٰن — Short Introduction

ارم رحمٰن
📍 لاہور، پاکستان

ارم رحمن پیشے کے لحاظ سے ایڈووکیٹ ہیں جن کا تعلق لاہور سے ہے۔ اردو زبان و ادب سے فطری مناسبت کی وجہ سے کچھ عرصہ وکالت کرنے کے بعد وہ درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہو گئیں ۔ انہوں نے اپنے مافی الضمیر کے اظہار کے لیے ابتدا میں شاعری کا انتخاب کیا ۔ ان کی نثری نظمیں کمال کی ہوتی ہیں جن میں تخلیقی وفور کے ساتھ ساتھ شعری جمالیات اور موضوعات کو نئے زاویوں سے باندھنا قاری اور ناقد دونوں کو متاثر کرتا ہے …

Read more ←
ارم رحمٰن کی مزید تحریریں
روشنی
اسٹیج سج چکا تھا ۔ ہال لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ۔ آج خلاف معمول زیادہ رش ت...
قل زردہ
بڑے سے گھر کے ،بڑے سے صحن میں، جب بڑی بی کے قل کے اہتمام میں 6 دیگیں تین بریانی ...
حنوط
بارش کے بعد مٹی سے نکلتی سوندھی سوندھی خوشبو، مجھے بہت پسند تھی، سردیوں کے موسم ...
وحشت دروں
جون کی گرم چمکیلی دوپہر۔۔۔نیلگوں صاف شفاف آسمان ایک شوخ و چنچل طائر خراماں خراما...
مزید متعلقہ نثر
گود کے لیے ترستی کویتا
ہرکویتا کسی گود کے انتظار میں ہوتی ہے جیسے تمہاری پالتو بلی تمہاری گود کا لمس لی...
محبت کے خیاباں کا مسافر — منتظم عاصیؔ
میں مسافر، ہوں محبت، کے خیاباں، کا مجھے حرفِ ندا ذوق و شناسائی سے حاصل، ہوئی معر...
رسیا
دو بین کرتی آنکھیں دو بے چین ہوتی آنکھیں اپنی غربت کا تماشہ بننے ہر ہوس زدہ لوگو...
لطیفہ
لطیفہ ہی تو ہے یہ زندگی ہاں دیکھو تو ایک لطیف سا احساس سوچو تو محض مرنے پر قیاس ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online