اشتہار
اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
نثری نظم

رسیا

رسیا
ارم رحمٰن
ارم رحمٰن پیر، 25 مئی 2026
👁 36 ❤️ 0

دو بین کرتی آنکھیں
دو بے چین ہوتی آنکھیں
اپنی غربت کا
تماشہ بننے ہر
ہوس زدہ لوگوں کی
دزدیدہ نگاہوں سے خوفزدہ
جب چھم چھم آنسو بہا رہی تھیں
اور
اپنا آپ چھپا رہی تھیں
تو دیکھنے والوں کی اکثریت
ان دل چیرتے آنسوؤں کے برعکس
ان روتی ہوئی پیاری آنکھوں کی
" رسیا "
نکلی

📖 خلاصہ

یہ مختصر مگر نہایت اثر انگیز نظم ایک غریب اور بے بس لڑکی (یا عورت) کی آنکھوں کے ذریعے معاشرے کی سفاکی کو بے نقاب کرتی ہے۔ اس کی آنکھیں غربت، خوف اور بے بسی کے آنسو بہا رہی ہیں، وہ خود کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ ہوس زدہ نظروں سے بچ سکے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ دیکھنے والے اس کے درد کو سمجھنے کے بجائے، اس کی معصومیت اور آنکھوں کے حسن کے رسیا بن جاتے ہیں۔

نظم اس تلخ حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ ہمارا معاشرہ اکثر مظلوم کے دکھ کو محسوس کرنے کے بجائے اسے تماشہ بنا دیتا ہے۔ یہاں آنسو بھی ہمدردی پیدا نہ

✍️ ارم رحمٰن — مختصر تعارف

ارم رحمٰن
📍 لاہور، پاکستان

ارم رحمن پیشے کے لحاظ سے ایڈووکیٹ ہیں جن کا تعلق لاہور سے ہے۔ اردو زبان و ادب سے فطری مناسبت کی وجہ سے کچھ عرصہ وکالت کرنے کے بعد وہ درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہو گئیں ۔ انہوں نے اپنے مافی الضمیر کے اظہار کے لیے ابتدا میں شاعری کا انتخاب کیا ۔ ان کی نثری نظمیں کمال کی ہوتی ہیں جن میں تخلیقی وفور کے ساتھ ساتھ شعری جمالیات اور موضوعات کو نئے زاویوں سے باندھنا قاری اور ناقد دونوں کو متاثر کرتا ہے …

مزید پڑھیں ←
ارم رحمٰن کی مزید تحریریں
روشنی
اسٹیج سج چکا تھا ۔ ہال لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ۔ آج خلاف معمول زیادہ رش ت...
قل زردہ
بڑے سے گھر کے ،بڑے سے صحن میں، جب بڑی بی کے قل کے اہتمام میں 6 دیگیں تین بریانی ...
حنوط
بارش کے بعد مٹی سے نکلتی سوندھی سوندھی خوشبو، مجھے بہت پسند تھی، سردیوں کے موسم ...
وحشت دروں
جون کی گرم چمکیلی دوپہر۔۔۔نیلگوں صاف شفاف آسمان ایک شوخ و چنچل طائر خراماں خراما...
مزید متعلقہ نثر
لطیفہ
لطیفہ ہی تو ہے یہ زندگی ہاں دیکھو تو ایک لطیف سا احساس سوچو تو محض مرنے پر قیاس ...
محبت کے خیاباں کا مسافر — منتظم عاصیؔ
میں مسافر، ہوں محبت، کے خیاباں، کا مجھے حرفِ ندا ذوق و شناسائی سے حاصل، ہوئی معر...
گود کے لیے ترستی کویتا
ہرکویتا کسی گود کے انتظار میں ہوتی ہے جیسے تمہاری پالتو بلی تمہاری گود کا لمس لی...
ریل گاڑی
جا وہ رہا تھا مگر محسوس ہوا کہ میں سفر میں تھی جدا وہ ہورہا تھا مجھ سے یا میں ہج...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن