اشتہار
اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
افسانچہ

علیم طاہرؔ کا افسانچہ "گھڑی" | باپ کے لیے مہنگی گھڑی اور وقت کا سوال

علیم طاہرؔ کا افسانچہ "گھڑی" | باپ کے لیے مہنگی گھڑی اور وقت کا سوال
علیم طاہرؔ
علیم طاہرؔ ہفتہ، 23 مئی 2026
👁 33 ❤️ 0

بیٹا اپنے باپ کیلئے مہنگی گھڑی لایا۔
باپ نے خوش ہوکر پوچھا:
"وقت بھی دو گے؟"
بیٹا مسکرا نہ سکا۔

📖 خلاصہ

افسانچہ "گھڑی" ایک باپ اور بیٹے کے درمیان موجود محبت، وقت کی کمی اور رشتوں کی اصل ضرورت کو نہایت مختصر مگر مؤثر انداز میں پیش کرتا ہے۔ بیٹا باپ کے لیے مہنگی گھڑی لاتا ہے، لیکن باپ کا سوال "وقت بھی دو گے؟" تحفے کی مادی قیمت سے زیادہ جذباتی وقت کی اہمیت سامنے لے آتا ہے۔ بیٹے کا مسکرا نہ سکنا اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ شاید وہ باپ کو قیمتی چیز تو دے سکتا ہے، مگر اپنا وقت دینے سے محروم ہے۔

✦ مرکزی خیال

اس افسانچے کا مرکزی خیال والدین کے لیے مادی تحفوں سے زیادہ وقت اور محبت کی اہمیت ہے۔ باپ کی خواہش مہنگی گھڑی نہیں بلکہ بیٹے کی قربت اور اس کے ساتھ گزا…

اس افسانچے کا مرکزی خیال والدین کے لیے مادی تحفوں سے زیادہ وقت اور محبت کی اہمیت ہے۔ باپ کی خواہش مہنگی گھڑی نہیں بلکہ بیٹے کی قربت اور اس کے ساتھ گزارا ہوا وقت ہے۔ بیٹے کا مسکرا نہ سکنا اس احساسِ جرم اور حقیقت پسندی کو ظاہر کرتا ہے کہ وقت شاید اس کے پاس نہیں۔

📚 ادبی جائزہ

"گھڑی" ایک مختصر مگر معنی خیز افسانچہ ہے جس میں روزمرہ زندگی کی ایک معمولی سی صورتِ حال کو گہری جذباتی معنویت دی گئی ہے۔ گھڑی یہاں صرف وقت ب…

"گھڑی" ایک مختصر مگر معنی خیز افسانچہ ہے جس میں روزمرہ زندگی کی ایک معمولی سی صورتِ حال کو گہری جذباتی معنویت دی گئی ہے۔ گھڑی یہاں صرف وقت بتانے والی چیز نہیں بلکہ وقت کی علامت بن جاتی ہے۔ باپ کا مختصر سوال پوری کہانی کے مفہوم کو اچانک وسیع کر دیتا ہے۔

🖋️ تنقیدی جائزہ

افسانچے کی قوت اس کے اختصار اور آخری جملے میں پوشیدہ ہے۔ باپ کا سوال بظاہر سادہ ہے، مگر بیٹے کی خاموش کیفیت اسے ایک گہرے اخلاقی سوال میں بدل دیتی ہے۔ …

افسانچے کی قوت اس کے اختصار اور آخری جملے میں پوشیدہ ہے۔ باپ کا سوال بظاہر سادہ ہے، مگر بیٹے کی خاموش کیفیت اسے ایک گہرے اخلاقی سوال میں بدل دیتی ہے۔ تحریر قاری کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم اپنے والدین کو اشیا تو دے دیتے ہیں، مگر کیا انہیں اپنا وقت بھی دیتے ہیں؟

✦ فنی محاسن

اختصار، مکالمے کی برجستگی، علامتی عنوان، جذباتی تضاد، کرداروں کی مختصر مگر واضح تشکیل اور آخری جملے میں معنوی گہرائی اس افسانچے کے نمایاں فنی محاسن ہی…

اختصار، مکالمے کی برجستگی، علامتی عنوان، جذباتی تضاد، کرداروں کی مختصر مگر واضح تشکیل اور آخری جملے میں معنوی گہرائی اس افسانچے کے نمایاں فنی محاسن ہیں۔

✦ علامت نگاری

"گھڑی" وقت، زندگی اور گزرے ہوئے لمحوں کی علامت ہے۔ "مہنگا تحفہ" مادی محبت کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ "وقت" خلوص، قربت اور…

"گھڑی" وقت، زندگی اور گزرے ہوئے لمحوں کی علامت ہے۔ "مہنگا تحفہ" مادی محبت کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ "وقت" خلوص، قربت اور حقیقی محبت کی علامت بن کر سامنے آتا ہے۔ بیٹے کا نہ مسکرانا اندرونی احساس اور خاموش شرمندگی کی علامت ہے۔

✦ استعارات و تشبیہات

اس افسانچے میں براہِ راست تشبیہ کے بجائے علامتی اور معنوی اظہار زیادہ نمایاں ہے۔ "گھڑی" وقت کی قدر کا استعارہ بن جاتی ہے، جبکہ "وقت بھی…

اس افسانچے میں براہِ راست تشبیہ کے بجائے علامتی اور معنوی اظہار زیادہ نمایاں ہے۔ "گھڑی" وقت کی قدر کا استعارہ بن جاتی ہے، جبکہ "وقت بھی دو گے؟" ایک ایسا سوال ہے جو ظاہری تحفے کے مقابل حقیقی محبت کی قدر کو نمایاں کرتا ہے۔

✦ مصنف کے فکری زاویے

علیم طاہرؔ نے اس افسانچے میں جدید مصروف زندگی میں والدین کے ساتھ کم ہوتے وقت کو موضوع بنایا ہے۔ مصنف کا فکری زاویہ یہ ہے کہ رشتوں کی اصل مضبوطی مہنگی …

علیم طاہرؔ نے اس افسانچے میں جدید مصروف زندگی میں والدین کے ساتھ کم ہوتے وقت کو موضوع بنایا ہے۔ مصنف کا فکری زاویہ یہ ہے کہ رشتوں کی اصل مضبوطی مہنگی اشیا سے نہیں بلکہ توجہ، قربت اور وقت دینے سے قائم رہتی ہے۔

✦ آج کے دور میں معنویت

آج کے مصروف دور میں اولاد اپنے والدین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تحائف اور سہولتیں تو فراہم کر دیتی ہے، مگر ان کے ساتھ بیٹھنے اور بات کرنے کا وقت کم …

آج کے مصروف دور میں اولاد اپنے والدین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تحائف اور سہولتیں تو فراہم کر دیتی ہے، مگر ان کے ساتھ بیٹھنے اور بات کرنے کا وقت کم ہوتا جا رہا ہے۔ اس لیے "گھڑی" کا پیغام موجودہ دور میں خاص طور پر اہم ہے کہ والدین کو صرف چیزیں نہیں، اپنا وقت بھی دینا چاہیے۔

علیم طاہرؔ کی مزید تحریریں
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب | شخصیت، شاعری اور ادبی خدمات
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب ایک ایسا شاعر جس کے اشعار ل...
چراغِ آخر
بوڑھا شاعر اپنی آخری نظم لکھ رہا تھا۔ بیٹے نے پوچھا: "اب اس عمر میں کیوں لک...
بند کتاب
بوڑھا استاد روز اپنی پرانی کتابیں صاف کرتا تھا۔ بیٹے نے کہا: "اب اِنہیں کون...
آئس کریم
چھوٹا بچہ آئس کریم والے کو حسرت سے دیکھ رہا تھا۔ ایک اجنبی نے اُسے آئس کریم خرید...
مزید متعلقہ نثر
آئینہ
وہ روز سوشل میڈیا پر اخلاق، انسانیت اور احترامِ آدمیت کے لمبے لمبے درس دیتا تھا۔...
تجوری — عظمت اقبال
تین کمروں پر مشتمل ہمارے مکان کے درمیانی کمرے میں دیوار سے لگ کر ایک تجوری تھی۔ ...
سیٹی
فیکٹری کی سیٹی بجتے ہی مزدور دوڑ پڑتے تھے۔ ایک بچہ روز دروازے پر اپنے باپ کا انت...
آئس کریم
چھوٹا بچہ آئس کریم والے کو حسرت سے دیکھ رہا تھا۔ ایک اجنبی نے اُسے آئس کریم خرید...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن