اشتہار
اشتہار
اشتہار
यह साइट जनाब अकबर शेख़ साहब
अकबर शेख़
के सम्मान में बनाई गई है
📖 उनके बारे में
کہانی

مریخ کا اسکول

علیم طاہرؔ
علیم طاہرؔ بدھ، 20 مئی 2026
👁 40 ❤️ 1

سال 2200ء۔
زمین پر ماحولیاتی تباہی، جنگوں اور آلودگی کے باعث انسانوں کی اکثریت اب مریخ پر منتقل ہو چکی تھی۔
مریخ پر مصنوعی گنبدوں میں شہر بسائے جا چکے تھے۔ ہر شہر میں الگ الگ "زون" تھے — اور ہر زون میں الگ الگ طبقے۔
زون-1 میں وہ لوگ تھے جو طاقتور، امیر اور بااثر تھے۔
زون-5 میں وہ لوگ تھے جنہیں صرف مشقت، خاموشی اور اطاعت کے لیے رکھا گیا تھا۔
زون-5 میں رہنے والا ایک بارہ سالہ لڑکا تھا — "ارہم"
وہ سرخ مٹی سے بنے ایک کچے خیمے میں پیدا ہوا، مگر آنکھوں میں ستاروں جیسے خواب لے کر جیا۔
ارہم ہر روز زون-1 کے اوپر سے گزرنے والی "فلائنگ کلاس رومز" کو دیکھتا — شیشے جیسے ڈبے، جن میں بچے کششِ ثقل سے آزاد ہو کر علم حاصل کرتے تھے۔
ایک دن ارہم نے فیصلہ کر لیا:
“اگر مریخ پر سب کچھ مصنوعی ہے، تو میں بھی اپنا نصیب خود تخلیق کروں گا!”
خواب کی شروعات:
اس نے مٹی، لوہے کے پرزوں، اور فالتو بیٹریوں سے ایک خود ساختہ تعلیمی چِپ بنائی — جسے اس نے "دل سے پڑھنے والی چِپ" کہا۔
یہ چپ صرف اس وقت کام کرتی تھی جب کوئی بچہ پوری نیت، سچائی اور محبت سے کچھ سیکھنا چاہے۔
چپ نے ارہم کو آہستہ آہستہ مریخی سائنس، خلائی حساب، اور انسانی تاریخ سکھانا شروع کیا۔
جلد ہی اس کی چِپ کی کہانی زون-1 تک پہنچی۔
ایک روز زون-1 کی مرکزی تعلیمی کونسل نے ارہم کو طلب کیا۔
وہ وہاں پہنچا — جلی کپڑوں میں، مٹی میں لت پت جوتے پہنے۔
مگر اس کی آنکھوں میں جو روشنی تھی، وہ سب اسکولوں سے زیادہ چمکدار تھی۔
فیصلہ:
کونسل کا سب سے بوڑھا فرد بولا:
> “تم زون-5 سے ہو، تمہیں اجازت نہیں کہ زون-1 کے علم تک رسائی لو!”
ارہم نے خاموشی سے اپنی چِپ نکالی، اور کہا:
“علم صرف امیر کا حق نہیں —
یہ وہ سورج ہے جو اگر ایک کو چمک دے،
تو باقی سب کے اندھیرے بھی روشن ہو جاتے ہیں۔”

نتیجہ:
اسی دن مریخ کی تعلیمی پالیسی بدلی گئی۔
زون کی بنیاد پر علم بانٹنے والا نظام توڑ دیا گیا۔
ارہم کو پہلا "گلوبل مریخ اسکول" بنانے کا موقع دیا گیا — جہاں زون، ذات، نسل، زبان اور خلائی سرحدوں کا کوئی مطلب نہ تھا۔
اب مریخ پر ہر بچہ فلائنگ کلاس روم میں سیکھتا ہے —
اور ہر چِپ ایک ہی چیز کہتی ہے:
“علم وہ خلائی جہاز ہے
جو ہر خواب کو ستاروں تک لے جاتا ہے۔”

سبق:
اگر ایک خواب دل سے نکلے،
تو وہ مریخ جیسے سنسان سیارے کو بھی
اسکول میں بدل سکتا ہے۔

علیم طاہرؔ کی مزید تحریریں
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب | شخصیت، شاعری اور ادبی خدمات
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب ایک ایسا شاعر جس کے اشعار ل...
چراغِ آخر
بوڑھا شاعر اپنی آخری نظم لکھ رہا تھا۔ بیٹے نے پوچھا: "اب اس عمر میں کیوں لک...
بند کتاب
بوڑھا استاد روز اپنی پرانی کتابیں صاف کرتا تھا۔ بیٹے نے کہا: "اب اِنہیں کون...
آئس کریم
چھوٹا بچہ آئس کریم والے کو حسرت سے دیکھ رہا تھا۔ ایک اجنبی نے اُسے آئس کریم خرید...
مزید متعلقہ نثر
احساس کا چِپ
سال 2250ء۔ انسان ترقی کر چکا تھا، اتنا کہ اب دکھ، خوشی، محبت، خفگی — سب جذبات ای...
درخت کی خاموش نیکی — منتظم عاصیؔ
ایک بچہ روز ایک درخت کو پتھر مارتا تھا۔ ایک دن سخت گرمی میں وہ بہت تھک گیا۔ اسی ...
آخری انسان اور پہلا مشین دِل
سال 2400ء۔ انسانی جسم ناپید ہو چکا تھا۔ اب انسان صرف ڈیجیٹل ذہن بن چکا تھا — بغی...
سچائی کا انعام — منتظم عاصیؔ
علی ایک چھوٹا لڑکا تھا۔ ایک دن اسے راستے میں سو روپے ملے۔ وہ چاہتا تو ان پیسوں س...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 टिप्पणियाँ (0)
टिप्पणी के लिए लॉग इन करें

अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!

साहित्यिक AI सहायक
● ऑनलाइन