اشتہار
اشتہار
اشتہار
यह साइट जनाब अकबर शेख़ साहब
अकबर शेख़
के सम्मान में बनाई गई है
📖 उनके बारे में
افسانہ

آئیڈیل مین

عظمت اقبالؔ
عظمت اقبالؔ جمعرات، 7 مئی 2026
👁 47 ❤️ 1

آج وہ میڈیکل کالج میں داخلے کے مقصد سے اپنے باپ کے ساتھ کالج انتظامیہ سے ملاقات کے لئے جا رہا تھا۔آٹو میں سامنے لگے آئینے میں منعکس ہونے والے اپنے باپ کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔
اس کے دوستوں میں کچھ ایسے طلباء تھے جو اسکول اور کالج کے اوقات میں راہ فرار اختیار کر سنیما ہال کا رخ کرتے ۔ یہ لوگ بالی ووڈ اور ہالی ووڈ اسٹار س کو اپنا آئیڈیل مانتے تھے ۔ کچھ پڑھاکو قسم کے سنجیدہ طلباء بھی تھے ۔ ان کے لئے آنسٹائن، ابن سینا، نینسن منڈیلا اور مہاتما گاندھی سے لے کر اے پی جے عبدالکلام تک مختلف شخصیات آئیڈیل تھیں ۔ اس نے جب سے ہوش سنبھالا اپنے باپ کو اصول و ضوابط کا پابند پایا۔ وہ مذہبی تعلیمات ، عبادات ،تقویٰ و پرہیزگاری میں اپنی مثال آپ تھے۔ ذمہ داریوں و فرائض کو پوری قوت کے ساتھ اپنے کاندھوں پر ڈھونے والے انسان تھے۔ اس کے باپ کا بچپن غریبی میں گزرا تھا ۔ بنیادی سہولیات کے فقدان کے باوجود انہوں نے اپنی محنت اور مستقل مزاجی کی بدولت تعلیم حاصل کی اور محکمہ محصول میں کلرک کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اپنے بیس برسوں کے کرئیر میں ناجائز کمائی سے نا تو ان کے ہاتھ گندے ہوئے اور نا ہی کسی غیر قانونی سرگرمی نے ان کی سفید کالر کو دھبہ لگایا ۔ وہ مستقبل کا سفر اپنے باپ کا پیروکار بن کر طے کرنے کا خواہاں تھا ۔ آفس میں میٹینگ کی میز پر کالج انتظامیہ نے وضاحت پیش کی کہ اس کے حاصل کردہ نمبرات داخلے کے لئے درکار نمبرات سے کچھ کم ہیں ۔
“ کیا کوئی راستہ ہے؟”
اس کے باپ کے الفاظ امیدوں سے لپٹے ہوئے تھے۔
منتظمین میں سے ایک نے رازدارانہ انداز میں کہا ،
” دیکھیں جناب ! ایک راستہ ہے ۔ آپ کے بچے کے داخلے کے لئے میرٹ کی فہرست میں کچھ بدلاؤ کرنے ہوں گے ۔ لیکن اس کے لئے نیچے سے اوپر تک مینیج کرنا ہوگا ۔ خرچ زیادہ ہوگا ۔”
“کیا ایسا ممکن ہے؟”
اس کے باپ کے جملے سے لا اعتمادی جھلک رہی تھی۔
منتظمین میں سے دوسرا شخص ٹیبل پر ہاتھ مارتا ہوا بولا ، “سر جی ! کیا کچھ نہیں ہو سکتا ؟ ہاں یہ ہے کہ میرٹ کی فہرست میں شامل کسی دوسرے بچے کا نام کاٹنا ہوگا۔”
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد اس کا باپ بولا،
” ٹھیک ہے آپ جو بھی رقم بولیں انتظام ہو جائے گا ۔ ایڈمیشن کنفرم کرلیں ۔”

عظمت اقبالؔ کی مزید تحریریں
خبردار! کوئی دیکھ رہا ہے
پچھلے دنوں ہمارے شہر میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس کے نتیجے میں بد امنی پھیلنے...
ہمارا زمانہ
ماہ رمضان میں مساجد و دیگر تقاریر میں ہونے والی تقاریر و بیانات میں مقررین اور ع...
فضیلت
بستی کے نصف سے زیادہ افراد چودھری صاحب کے یہاں دعائیہ تقریب میں اکٹھا تھے۔ کچھ ت...
تجوری — عظمت اقبال
تین کمروں پر مشتمل ہمارے مکان کے درمیانی کمرے میں دیوار سے لگ کر ایک تجوری تھی۔ ...
مزید متعلقہ نثر
अंजीर की मिठाई, अज़मत इक़बाल
अंजीर की मिठाई !अपने गालों पर पड़े थप्पड़ों की सनसनाहट उसे अब तक अपने दिमाग में ...
تانگا
ایک گھنے درخت کے سائے میں تانگا رک گیا تھا ۔ تیز دھوپ تھی ۔ آدھے دن میں کچھ سمتو...
روشنی
اسٹیج سج چکا تھا ۔ ہال لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ۔ آج خلاف معمول زیادہ رش ت...
نوحہ
کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے دنیا انسانوں سے خالی ہے اور میں اکیلا تنہائی کی تلاش...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 टिप्पणियाँ (0)
टिप्पणी के लिए लॉग इन करें

अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!

साहित्यिक AI सहायक
● ऑनलाइन