اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
نثری نظم

زعفرانی، سفید، ہرا

Muntazim Aasi
Muntazim Aasi جمعرات، 7 مئی 2026
👁 39 ❤️ 0

میں نے جب پہلی بار
اپنے اسکول کی چھت پر لہراتا ہوا ترنگا دیکھا تھا
تو مجھے صرف رنگ نظر نہیں آئے تھے
مجھے اپنا گھر دکھائی دیا تھا…
اپنی گلی، اپنی ماں کی دعا،
ابو کے پسینے کی خوشبو،
عید کی سویاں، دیوالی کے چراغ،
ہولی کے رنگ،
اور محرم کی سیاہ راتوں میں
پانی بانٹتے ہوئے وہ ہندو لڑکے بھی
جو حسینؑ کا نام ادب سے لیتے تھے۔
مجھے تب نہیں معلوم تھا
کہ ایک دن
انہی رنگوں کے بیچ
نفرت کے سائے اگ آئیں گے۔
زعفرانی…
جو کبھی قربانی اور روشنی کی علامت تھا
اب بعض آنکھوں میں
دوسروں کو جلانے کی آگ کیوں بن گیا ہے؟
سفید…
جو امن کا راستہ تھا
وہ اتنا خاموش کیوں ہے؟
اتنا خاموش
کہ چیختی ہوئی سچائیاں بھی
اس کے دامن میں دم توڑ دیتی ہیں۔
اور ہرا…
وہ رنگ
جسے میں نے ہمیشہ کھیتوں، درختوں
اور اپنے وطن کی مٹی کی نمی میں دیکھا تھا
آج بعض لوگ اسے
صرف میرے نام سے کیوں جوڑ دیتے ہیں؟
کیوں میرے وطن سے محبت پر
میرے مذہب کا سوال کھڑا کیا جاتا ہے؟
میں ایک ہندوستانی مسلمان ہوں۔
میرے دادا کی قبریں اسی زمین میں ہیں،
میرے بچپن کی اذانیں
اسی فضا میں گونجی ہیں،
میں نے اسی مٹی پر چلنا سیکھا،
اسی پانی سے وضو کیا،
اسی ہوا میں خواب بوئے۔
پھر کیوں
جب میں “ہندوستان زندہ باد” کہتا ہوں
تو کچھ نگاہیں
میرے لہجے میں وفاداری ڈھونڈنے لگتی ہیں؟
میرے دل میں
کوئی دوسرا ملک نہیں دھڑکتا۔
یہیں کی بارشیں میری شاعری ہیں،
یہیں کی گرد میری پہچان،
یہیں کے سپاہی میری دعاؤں میں شامل،
یہیں کے مزدور میرے بھائی،
یہیں کی عورتیں میری ماؤں جیسی،
یہیں کے بچے میری امید۔
مگر افسوس…
اب فضا میں محبت کم
اور شناختوں کا شور زیادہ ہے۔
لوگ نام پوچھتے ہیں
پھر دلوں کے دروازے کھولتے ہیں۔
مسجد کے مینار
اور مندر کے شکھر
دونوں ایک ہی آسمان کے نیچے کھڑے ہیں
مگر زمین پر چلنے والے انسان
آپس میں دور ہوتے جا رہے ہیں۔
مجھے ڈر لگتا ہے…
اس دن سے
جب ترنگا صرف ایک جھنڈا رہ جائے گا
اور اس کے رنگ
دلوں سے نکل جائیں گے۔
میں چاہتا ہوں
زعفرانی پھر سے ایثار بنے،
سفید پھر سے سچ بولے،
ہرا پھر سے زندگی کی خوشبو دے۔
میں چاہتا ہوں
کہ جب کوئی بچہ
اپنی ننھی انگلیوں سے
ترنگا بنائے
تو اسے مذہب نہ سکھایا جائے،
صرف محبت سکھائی جائے۔
کیونکہ وطن
صرف سرحدوں کا نام نہیں ہوتا،
وطن وہ احساس ہے
جہاں انسان
خوف کے بغیر
اپنا نام لے سکے۔
اور میں…
آج بھی
اسی ہندوستان سے محبت کرتا ہوں
جو گنگا کی طرح وسیع تھا،
جو غالبؔ کی غزل بھی تھا
اور کبیر کا دوہا بھی،
جو عبد الکلام کا خواب تھا
اور بھگت سنگھ کی قربانی بھی۔
میرا دل آج بھی
ترنگے کے تینوں رنگوں کے ساتھ دھڑکتا ہے—
زعفرانی…
سفید…
ہرا…
بس دعا یہ ہے
کہ ان رنگوں کے بیچ
نفرت کا کوئی چوتھا رنگ
پیدا نہ ہو جائے

✍️ Mohammad Muntazim Mohammad Shaban Ansari — Short Introduction

Mohammad Muntazim Mohammad Shaban Ansari
📍 Malegaon, Maharashtra, india

## Shakhsiyat, Adabi Safar aur Shayari Khidmaat
Muntazim Aasi ka shumaar un ahl-e-qalam mein hota hai jinhon ne sher-o-adab ki duniya mein kisi baqaida adabi idare ya rasmi tarbiyati silsile ke sahare ke bajaye apne shauq, mutalea, musalsal mashq, asatiza ki rehnumai aur ghair mamooli junoon-e-sukhan ke zariye apna raasta banaya. Unka adabi safar mahaz shayari tak mehdood nahin balki yeh ek aise …

Read more ←
Muntazim Aasi کی مزید تحریریں
غالب کے ہاں تصورِ عورت | عشق، شخصیت، تہذیب اور انسانی وقار کا تحقیقی مطالعہ
غالب کے ہاں تصورِ عورت عشق، شخصیت، تہذیب اور انسانی وقار کا تحقیقی مطالعہ تعارف ...
غالب کی سیاسی فکر: زوالِ سلطنت، استعمار اور ہندوستانی تہذیب | جامع تحقیقی مقالہ
غالب کی سیاسی فکر زوالِ سلطنت، استعمار اور ہندوستانی تہذیب کا تحقیقی مطالعہ تعار...
غالب کا تصوف: روایت، فکر اور جدید شعور | مرزا غالب پر جامع تحقیقی مقالہ
غالب کا تصوف روایت، فکر اور جدید شعور کا تحقیقی مطالعہ تعارف اردو ادب کی تاریخ م...
Mirza Ghalib: Shakhsiyat, Fan, Fikr aur Jadeed Sha'ari Shu'oor Ek Tahqiqi wa Tanqidi Mutalea
Mirza Ghalib: Shakhsiyat, Fan, Fikr aur Jadeed Sha'ari Shu'oor Ek Tahq...
مزید متعلقہ نثر
جنون
جنون دار پر چڑھ کر رقص کرتا ہے، جنون قتل کر کے افسوس کرتا، جنون ہی رموزِ قلب سے ...
رسیا
دو بین کرتی آنکھیں دو بے چین ہوتی آنکھیں اپنی غربت کا تماشہ بننے ہر ہوس زدہ لوگو...
کوکھ
اندھیرے کی کوکھ نے جنما ہے ان گنت مہیب خیالوں کو کتنے مبہم جوابوں کو کتنے مشکل س...
گود کے لیے ترستی کویتا
ہرکویتا کسی گود کے انتظار میں ہوتی ہے جیسے تمہاری پالتو بلی تمہاری گود کا لمس لی...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online