طفیلِ طفل ہی اسرار رونما ہوئے ہیں
پلے گراؤنڈ میں ایک ضعیف شخص بیٹھا مٹی سے کھیلتے ہوئے کنکر گھاس پھوس سے کچھ بنا رہا تھا
کبھی اپنے آپ سے باتیں کرتا تو کبھی آسمان کی طرف دیکھتا
جیسے اسے بارش کا انتظار ہو کبھی کبھی کچھ ایسی حرکت کرتا جسے دیکھ کر معلوم ہوتا کہ کوئی مجنون ہے
کبھی مٹی کو مٹھی میں بھر کر ہوا میں اڑاتا
کبھی اچھلتا کودتا ایک عجیب سی کیفیت لئے اپنے چہرے پر ہر آنے جانے والوں کو دیکھتا
اپنی آستین سے چہرے کو صاف کرتا
میں وہیں کچھ دور کھڑے یہ سب دیکھ رہا تھا مجھ سے رہا نہیں گیا میں آگے بڑھا اس ضعیف شخص کے پاس جاکر ان سے کہا کیا بات ہے حضرت عمر پچپن کی حرکت بچپن کی اتنا سنتے ہی وہ مڑ کر مجھے دیکھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے
اور ایک سمت چلنے لگے میں حیران انہیں دیکھتا رہا کچھ دور چلنے کے بعد وہ رکے میری جانب پلٹ کر دیکھا اور بس اتنا کہا "طفیلِ طفل ہی یہ اسرار رونما ہوئے ہیں"
✍️ Mohammad Muntazim Mohammad Shaban Ansari — Short Introduction
## Shakhsiyat, Adabi Safar aur Shayari Khidmaat
Muntazim Aasi ka shumaar un ahl-e-qalam mein hota hai jinhon ne sher-o-adab ki duniya mein kisi baqaida adabi idare ya rasmi tarbiyati silsile ke sahare ke bajaye apne shauq, mutalea, musalsal mashq, asatiza ki rehnumai aur ghair mamooli junoon-e-sukhan ke zariye apna raasta banaya. Unka adabi safar mahaz shayari tak mehdood nahin balki yeh ek aise …




No comments yet — be the first!