اشتہار
اشتہار
اشتہار
यह साइट जनाब अकबर शेख़ साहब
अकबर शेख़
के सम्मान में बनाई गई है
📖 उनके बारे में

📖 دیوانِ मुनतज़िम आसी

حروفِ تہجی کی ترتیب سے مکمل کلام

ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر ڑ ز ژ س ش ص ض ط ظ ع غ ف ق ک گ ل م ن ں و ہ ھ ء ی ے
حرف "ے" کا کلام (55)
غزل
کھیل قسمت کا ہے — منتظم عاصیؔ کی طنزیہ و فکری غزل
کھیل قسمت کا ہے یا بری لت کا ہے کامیابی مری راز قدرت کا ہے کام مردود کے شوق جنت کا ہے یاد ...
غزل
منتظم عاصیؔ کی غزل — خود سے شکوہ بھی ہے گلہ بھی ہے
خود سے شکوہ بھی ہے گلہ بھی ہے مسئلہ بھی ہے وسوسہ بھی ہے چھپ کے خاموش بہتے اشکوں سے واسطہ ب...
غزل
صنعتِ واصل الحرفین، صنعتِ چہار قوافتین اور صنعتِ موصّل — منتظم عاصیؔ
مغلِ بسمل سپھل حقیقت سے فصل محفل مچل طبیعت سے کب تلک کے جلیں گے ہم تنہا عقل محمل نکل محبت ...
غزل
صوفیانہ غزل از منتظم عاصیؔ | حق، عشق اور تحفظِ روح کی شاعری
کن ازل سے عزمِ لا محفوظ ہے یعنی حق کا قافلہ محفوظ ہے مٹ گئے اہلِ خرد اہلِ جفا پر ہمارا سلس...
غزل
منتظم عاصیؔ کی غزل: اپنوں کی خواہشیں، گردشِ وقت اور یاروں کی سازشیں
کردیا ختم جنبشوں نے مجھے مار ڈالا نوازشوں نے مجھے وقت سے پہلے کر دیا کمزور میرے اپنو کی خو...
نعت
منتظم عاصیؔ کی نعت | صنعتِ غیر منقوط | مولا علی کے گھر سے اللہ کے کرم سے
مولا علی کے گھر سے اللہ کے کرم سے اسلام سر عُلیٰ ہے سرکار کے ہِمَم سے ملکِ عدم کو کامل حاص...
غزل
منتظم عاصیؔ کی خوبصورت غزل | تخیلاتِ حزیں روحِ کائنات چلے
تخیلاتِ حزیں روحِ کائنات چلے قدم بڑھائے کوئی میرے ساتھ ساتھ چلے رفاقتوں کی میں کوئی مثال د...
منقبت
کربلا سرخ ہونے والی ہے – منقبتی کلام | محرم الحرام | شاعر منتظم عاصیؔ
دیں کا دامن بھگونے والی ہے کربلا سرخ ہونے والی ہے پھر اٹھایا یزیدیوں نے سر پھر شجاعت نمونے...
غزل
تخیلاتِ حزیں روحِ کائنات چلے | منتظم عاصیؔ کی خوبصورت غزل
تخیلاتِ حزیں روحِ کائنات چلے قدم بڑھائے کوئی میرے ساتھ ساتھ چلے رفاقتوں کی میں کوئی مثال د...
نعت
مصطفیٰ نکتَۂ لَولاک پہن کر آئے
مصطفیٰ نکتَۂ لَولاک پہن کر آئے عرش سے فطرتِ سفّاک پہن کر آئے ربِّ حبلی کی صدا گونج اٹھی ع...
ہائیکو
منتظم عاصیؔ کا ہائیکو "شہرِ شیشہ" | ہر شخص ہاتھوں میں پتھر رکھے
شہرِ شیشہ ہر شخص ہاتھوں میں پتھر رکھے
ہائیکو
منتظم عاصیؔ کا ہائیکو "بجھی آنکھیں" | موبائل کی روشنی چہرہ کھائے
بجھی آنکھیں موبائل کی روشنی چہرہ کھائے
حب الوطنی
بابائے امن آج ترا جشنِ وفا ہے
بابائے امن آج ترا جشنِ وفا ہے اے روحِ گگن آج ترا جشنِ وفا ہے گلزار کے خوابوں سے مزیّن ہے ت...
نوحہ
پہنچ کر مدینہ رسولِ خدا سے
پہنچ کر مدینہ رسولِ خدا سے شکایت کروں گی میں ماں فاطمہ سے نبی کے دلاروں کا خوں ہے بہایا یہ...
حب الوطنی
میرا بھارت مرا دل مری جان ہے
میرا بھارت مرا دل مری جان ہے آن ہے بان ہے اس کی کیا شان ہے بجتی ہے مندروں میں مَدُھر گھنٹی...
حب الوطنی
میرے بھارت ترا سمّان نہ جانے دیں گے
ہم مسلمان کبھی آنچ نہ آنے دیں گے میرے بھارت ترا سمّان نہ جانے دیں گے مصطفیٰ صلّیِ علیٰ نے ...
قطعہ
منتظم عاصیؔ کا قطعہ "دنیائے بے ثبات کے ہر غم بدل گئے" | صحرا چھانتے ہوئے خود ہم بدل گئے
دنیائے بے ثبات کے ہر غم بدل گئے مرقد میں میرے جاتے ہی درہم بدل گئے تقدیر کو بدلنا تھا پر ک...
غزل
کیسے بتلاؤں کہ کیا دان کیا ہے اس نے
کیسے بتلاؤں کہ کیا دان کیا ہے اس نے دار و مقتل کو ہی میزان کیا ہے اس نے سرد خاموش زغالوں ک...
قطعہ
منتظم عاصیؔ کا قطعہ ’’ماضی کے یہ حالات ہیں تقدیر نہیں ہے‘‘ — ماضی، تاریخ اور نئی نسل کے شعور کا پیغام
دوچار سہی لوگ یہاں جمع ہوئے تھے بیکار سی باتیں ہیں سمٹ کر اسے رکھ دے ماضی کے یہ حالات ہیں ...
غزل
جام و جم چپ ہے میکدہ چپ ہے
جام و جم چپ ہے میکدہ چپ ہے چپ صراحی ہے رندِ زا چپ ہے چپ شَرابِ کُہَن ہے، چپ ساقی شام چپ شم...
غزل
حُسنِ ظَن رَمزِ ہوشیاری ہے
حُسنِ ظَن رَمزِ ہوشیاری ہے رسمِ ناقِص تباہ کاری ہے کثرتِ عشق خوش خصالِ زَمَن دَرس تَدرِیس ...
غزل
اپنے گھر کی در و دیوار سمجھتے ہیں مجھے
اپنے گھر کی در و دیوار سمجھتے ہیں مجھے کچھ تو ایسے ہیں جو سنسار سمجھتے ہیں مجھے تھک گیا ہو...
طنز و مزاح
عجب عاشق ہے تحفے میں ٹماٹر بھیج دیتا ہے
کبھی آلو مٹر گوبھی کلنگر بھیج دیتا ہے عجب عاشق ہے تحفے میں ٹماٹر بھیج دیتا ہے مرا باورچی ب...
غزل
ہر غزل میری آپ ہی سی ہے
وصلِ موسم ہما ہمی سی ہے دل کی حالت کسی گھڑی سی ہے لوگ کہتے ہیں بعد سننے کے ہر غزل میری آپ ...
غزل
پھر پیش ہمیں ہونٹوں کا پیمانہ کریں گے
وہ شوخ ادا حسن سے دیوانہ کریں گے پھر پیش ہمیں ہونٹوں کا پیمانہ کریں گے دکھلائیں گے کچھ روز...
قطعہ
**عہد کی سچائی اور خودداری — منتظم عاصیؔ کا فکری قطعہ**
جاں دیں گے مگر جھوٹا وہ وعدہ نہ کریں گے جو اصل جنوں ہیں، کبھی دعویٰ نہ کریں گے جو لوگ گئے ...
قطعہ
منتظم عاصیؔ کا خوبصورت قطعہ | کسی ایک کونے میں چھپ کر سسکنا | مکمل ادبی و تنقیدی جائزہ
کسی ایک کونے میں چھپ کر سسکنا مرا مشغلہ ہے گھر آنے سے پہلے بہانا کوئی اور تم سوچ لینا جنوں...
غزل
خود بڑھایا ہے فاصلہ میں نے
کب کیا آپ سے گلہ میں نے وقتِ آخر بھی دی صدا میں نے اس میں کوئی قصور ان کا نہیں خود بڑھایا ...
نعت
حبیبِ خدا کی عنایات لکھنے
حبیبِ خدا کی عنایات لکھنے زمانے لگیں گے خیالات لکھنے قریب آ گئے ہیں ملک حور و غلماں "...
غزل
بس اس لئے تمام نصابوں میں رہ گئے
دنیا نواز لوگ شہابوں میں رہ گئے بس اس لئے تمام نصابوں میں رہ گئے دنیا یہ نفرتوں کے شکنجے م...
غزل
خوش فہمی کی قندیل جلانے کے لئے ہے
کچھ لفظ مرے پاس بَہانے کے لئے ہے خوش فہمی کی قندیل جلانے کے لئے ہے میں کینہ کپٹ بغض حسد کی...
غزل
دل غم کو سرِ نوکِ مژہ تول رہا ہے
نادیدہ عصیراتِ وفا گھول رہا ہے ”دل غم کو سرِ نوکِ مژہ تول رہا ہے“ دولخت حزیں قلبِ جنوں دشت...
قطعہ
زخموں سے چور یادوں کا سفر — منتظم عاصیؔ
زخموں سے چور یادوں کے عالم لئے ہوئے صحرا میں پھر رہا ہوں میں مرہم لئے ہوئے خوشیاں خریدنے ک...
غزل
پھول نے دئے نشتر اور کلی نے مارا ہے
گلشنِ محبت کی سادگی نے مارا ہے پھول نے دئے نشتر اور کلی نے مارا ہے موت سے کروں شکوہ کیا کو...
غزل
بخت جب مہربان ہوتا ہے
ساتھ جب خاندان ہوتا ہے تب ہمیں اطمینان ہوتا ہے جس میں رشتوں کی اہمیت ہی نہ ہو گھر نہیں وہ ...
حمد
منتظم عاصیؔ کی خوبصورت حمد | کیا پتا کیا رموزِ خلقت ہے
کیا پتا کیا رموزِ خلقت ہے تو ہی جانے تری مشیت ہے چل رہا ہے نظام دنیا کا تیری حکمت ہے تیری ...
غزل
زخم پر ڈال کر چٹکیوں سے نمک
زخم پر ڈال کر چٹکیوں سے نمک چینخنے پر مرے مسکراتے رہے تم بنا کر چراغ اپنی دہلیز کا میرے دل...
نعت
مچلتا دل، مہکتی روح، چہرہ جگمگاتا ہے
مدینے کے مسافر کا اشارہ مسکراتا ہے مچلتا دل، مہکتی روح، چہرہ جگمگاتا ہے قمر ٹکڑا ہوا سورج ...
غزل
نغمہ خرد کا بزم میں گایا نہ کیجئے
نغمہ خرد کا بزم میں گایا نہ کیجئے دل اہلِ غم کا آپ دکھایا نہ کیجئے کوشش تو کیجئے کبھی وعدہ...
غزل
نوکِ مژگاں پہ آ نہیں سکتے
دل گُزاں دل لگا نہیں سکتے دل کی دنیا بسا نہیں سکتے وہ جو محوِ فراق بیٹھے ہیں دل کسی کا دُک...
غزل
گُل وفا کا کھِلا نہیں سکتے
دور یادوں سے جا نہیں سکتے ”بھول کر بھی بھُلا نہیں سکتے“ زخم لگنے پہ چینخنے والے رسمِ الفت ...
غزل
ہم تمہیں آزما نہیں سکتے؟
رعب ہم پر جما نہیں سکتے بے وفا حق جتا نہیں سکتے جن کے پیروں میں آبلوں کے نشاں ہے نہیں وہ ہ...
غزل
عُریانیت کا شوخ طبیعت کا دور ہے
عُریانیت کا شوخ طبیعت کا دور ہے ”یہ دور آدمی کی اذیت کا دور ہے“ کچھ دُور ساتھ چلئیے تو ہو ...
غزل
سرخ قدموں سے راستہ ہو جائے
کاش صحرا کا حق ادا ہو جائے سرخ قدموں سے راستہ ہو جائے شب میں مانگی جو اٹھ کے اپنے لئے میرے...
غزل
ابھی دل ترے نام لکھّا نہیں ہے
ابھی توڑ کر وقتِ پرسہ نہیں ہے ابھی دل ترے نام لکھّا نہیں ہے الجھ کر تری یادوں میں رہ گیا ہ...
نعت
زندگی میری مدینے میں بسر ہو جائے
کاش سرکارِ دو عالم کی نظر ہو جائے زندگی میری مدینے میں بسر ہو جائے میں کہ واپس نہیں لوٹوں ...
طنز و مزاح
حضور آپ کا انداز شاعرانہ ہے
تمام لفظ تغزل کا کارخانہ ہے حضور آپ کا انداز شاعرانہ ہے ردیف شوخ طبیعت ہے قافیہ چنچل تمام ...
غزل
میری مرقد پہ اجالا نہیں ہونے دیتے
رسم و دستور سے ساجھا نہیں ہونے دیتے میرے اپنے مجھے اونچا نہیں ہونے دیتے کس پہ الزام دھروں ...
غزل
موت کا حوصلہ ضروری ہے
اب بھی کیا مرحلہ ضروری ہے دل جلا قافلہ ضروری ہے ہم ہیں تیار جان دینے کو موت کا حوصلہ ضروری...
حمد
تڑپ کے سجدے میں معبود کو پکارا ہے
مرے وجود نے موجود کو پکارا ہے تڑپ کے سجدے میں معبود کو پکارا ہے یقیں ہے حمد کے الفاظ اب کہ...
نعت
آپ ہی سورۂ رحمٰن مدینے والے
”آپ ہیں حاصلِ ایمان مدینے والے“ آپ پر جان ہے قربان مدینے والے آپ محبوبِ خدا آپ ہیں مقصودِ ...
غزل
پھر بھی تنہا مرا گزارا ہے
چاند ہے ساتھ، ساتھ تارا ہے پھر بھی تنہا مرا گزارا ہے ٹوٹ کر جاں بکھر گیا لیکن دل تمہارا تھ...
نعت
سوئے طیبہ سفر ہمارا ہے
اوج پر بخت کا ستارہ ہے سوئے طیبہ سفر ہمارا ہے جب سے دیکھا ہے گنبدِ خضرا ہر طرف نور کا نظار...
غزل
نظامِ عشق ہَدِیَّہ سِپاس لگتا ہے
نظامِ عشق ہَدِیَّہ سِپاس لگتا ہے وجودِ ہم کا قِیافہ شَناس لگتا ہے تَلاشِ عَکْسِ جنوں خواب ...
غزل
مرے وجود پہ یارب تھا اعتراض جسے
بتا رہا ہوں میں تسخیرِ انخفاض جسے فُسُوں نِگاہی کی تمثیل، شر، ریاض جسے پناہ گیر نحوست، نَح...
साहित्यिक AI सहायक
● ऑनलाइन