غزل مثالِ پرتوِ مے، طوفِ جام کرتے ہیں | اقبال غزل
مثال پرتو مے ، طوف جام کرتے ہيں يہي نماز ادا صبح و شام کرتے ہيں خصوصيت نہيں کچھ اس ميں اے ...
غزل چمک تیری عیاں بجلی میں آتش میں شرارے میں | اقبال غزل
چمک تيري عياں بجلي ميں ، آتش ميں ، شرارے ميں جھلک تيري ہويدا چاند ميں ،سورج ميں ، تارے ميں...
غزل زندگی انسان کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں | اقبال غزل
زندگي انساں کي اک دم کے سوا کچھ بھي نہيں دم ہوا کي موج ہے ، رم کے سوا کچھ بھي نہيں گل تبسم...
نظم فراق | علامہ اقبال | بانگِ درا
تلاش گوشہء عزلت ميں پھر رہا ہوں ميں يہاں پہاڑ کے دامن ميں آ چھپا ہوں ميں شکستہ گيت ميں چشم...
نظم جلوۂ حسن | علامہ اقبال | بانگِ درا
جلوہ حسن کہ ہے جس سے تمنا بے تاب پالتا ہے جسے آغوش تخيل ميں شباب ابدي بنتا ہے يہ عالم فاني...
نظم انسان | علامہ اقبال | بانگِ درا
قدرت کا عجيب يہ ستم ہے! انسان کو راز جو بنايا راز اس کي نگاہ سے چھپايا بے تاب ہے ذوق آگہي ...
نظم کلی | علامہ اقبال | بانگِ درا
جب دکھاتي ہے سحر عارض رنگيں اپنا کھول ديتي ہے کلي سينہء زريں اپنا جلوہ آشام ہے صبح کے مے خ...
غزل سختیاں کرتا ہوں دل پر غیر سے غافل ہوں میں | اقبال غزل
سختياں کرتا ہوں دل پر ، غير سے غافل ہوں ميں ہائے کيا اچھي کہي ظالم ہوں ميں ، جاہل ہوں ميں ...
غزل علامہ اقبالؔ کی غزل: ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں | عشقِ حقیقی، سوزِ طلب اور دیدار کی آرزو
ترے عشق کي انتہا چاہتا ہوں مري سادگي ديکھ کيا چاہتا ہوں ستم ہو کہ ہو وعدہ بے حجابي کوئي با...
غزل جنہیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں | اقبال غزل
جنھيں ميں ڈھونڈتا تھا آسمانوں ميں زمينوں ميں وہ نکلے ميرے ظلمت خانہ دل کے مکينوں ميں حقيقت...
غزل انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں | اقبال غزل
انوکھي وضع ہے ، سارے زمانے سے نرالے ہيں يہ عاشق کون سي بستي کے يا رب رہنے والے ہيں علاج در...
نظم صبح کا ستارہ | علامہ اقبال | بانگِ درا
لطف ہمسايگي شمس و قمر کو چھوڑوں اور اس خدمت پيغام سحر کو چھوڑوں ميرے حق ميں تو نہيں تاروں ...
نظم طفلِ شیرخوار | علامہ اقبال | بانگِ درا
ميں نے چاقو تجھ سے چھينا ہے تو چلاتا ہے تو مہرباں ہوں ميں ، مجھے نا مہرباں سمجھا ہے تو پھر...
نظم موجِ دریا | علامہ اقبال | بانگِ درا
مضطرب رکھتا ہے ميرا دل بے تاب مجھے عين ہستي ہے تڑپ صورت سيماب مجھے موج ہے نام مرا ، بحر ہے...
نظم ماہِ نو | علامہ اقبال | بانگِ درا
ٹوٹ کر خورشيد کي کشتي ہوئي غرقاب نيل ايک ٹکڑا تيرتا پھرتا ہے روئے آب نيل طشت گردوں ميں ٹپک...
نظم آفتابِ صبح | علامہ اقبال | بانگِ درا
شورش ميخانہ انساں سے بالاتر ہے تو زينت بزم فلک ہو جس سے وہ ساغر ہے تو ہو در گوش عروس صبح و...
نظم شمع | علامہ اقبال | بانگِ درا
بزم جہاں ميں ميں بھي ہوں اے شمع! دردمند فرياد در گرہ صفت دانہ سپند دي عشق نے حرارت سوز درو...
نظم عقل و دل | علامہ اقبال | بانگِ درا
عقل نے ايک دن يہ دل سے کہا بھولے بھٹکے کي رہنما ہوں ميں ہوں زميں پر ، گزر فلک پہ مرا ديکھ ...
نظم ایک پہاڑ اور گلہری | علامہ اقبال | بانگ درا
کوئي پہاڑ يہ کہتا تھا اک گلہري سے تجھے ہو شرم تو پاني ميں جا کے ڈوب مرے ذرا سي چيز ہے ، اس...