غزل تجھ لب کی صفت لعلِ بدخشاں سوں کہوں گا – ولی دکنی کی غزل | خلاصہ اور ادبی جائزہ
تجھ لب کی صِفَت لعلِ بدخشاں سوں کہوں گا جادو ہیں ترے نین، غزالاں سوں کہوں گا دی حق نے تجھے...
غزل ہوا ہے دل مرا مشتاق تجھ چشمِ شرابی کا – ولی دکنی کی غزل | خلاصہ اور ادبی جائزہ
ہوا ہے دل مرا مشتاق تجھ چشمِ شرابی کا خراباتی اُپر آیا ہے شاید دن خرابی کا کیا مدہوش مجھ د...
غزل الٰہی! رکھ مجھے تو خاکِ پا اہلِ معانی کا – ولی دکنی کی غزل | خلاصہ اور ادبی جائزہ
الٰہی! رکھ مجھے تو خاکِ پا اہلِ معانی کا کہ کھلتا ہے اسی صحبت سے نسخہ نکتہ دانی کا کیا یک ...
غزل عیاں ہے ہر طرف عالم میں حسنِ بے حجاب اس کا – ولی دکنی کی غزل | خلاصہ اور ادبی جائزہ
عیاں ہے ہر طرف عالمِ میں حسنِ بے حجاب اس کا بغیر از دیدۂ حیراں نہیں جگ میں نقاب اُس کا ہوا...
غزل دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا – ولی دکنی کی غزل | خلاصہ، تشریح اور ادبی جائزہ
دیکھنا ہر صبح تجھ رُخسار کا ہے مطالعہ مطلعِ انوار کا بلبل و پروانہ کرنا دل کے تئیں کام ہے ...
غزل یاد کرنا ہر گھڑی اس یار کا – ولی دکنی کی صوفیانہ غزل | خلاصہ، تشریح اور ادبی جائزہ
یاد کرنا ہر گھڑی اس یار کا ہے وظیفہ مجھ دلِ بیمار کا آرزوئے چشمۂ کوثر نہیں تشنہ لب ہوں شرب...
غزل روح بخشی ہے کام تجھ لب کا – ولی دکنی کی غزل | خلاصہ، تشریح اور ادبی جائزہ
روح بخشی ہے کام تجھ لب کا دمِ عیسیٰ ہے نام تجھ لب کا حُسن کے خضر نے کیا لبریز آبِ حیواں سو...
غزل جب صنم کو خیالِ باغ ہوا – ولی دکنی کی عشقیہ و جمالیاتی غزل
جب صنم کو خیالِ باغ ہوا طالبِ نشّۂ فراغ ہوا فوجِ عشاق دیکھ ہر جانب نازنیں صاحبِ دماغ ہوا ر...
غزل کتاب الحسن کا یہ مکھ صفا ترا صفا دِستا – ولی دکنی کی کلاسیکی غزل
کتاب الحسن کا یہ مکھ صفا ترا صفا دِستا ترے ابرو کے دو مصرع سوں اس کا ابتدا دِستا ترا مکھ ح...
غزل تجھ غمزۂ خوں ریز سوں لڑ کون سکے گا – ولی دکنی کی عشقیہ غزل
تجھ غمز ۂ خوں ریز سوں لڑ کون سکے گا تجھ ناز ستم گر سوں جھگڑ کون سکے گا پھرتی ہیں سیہ مست ...
غزل مجھ درد پر دوا نہ کرو تم حکیم کا – ولی دکنی کی صوفیانہ و عشقیہ غزل
مجھ درد پر دوا نہ کرو تم حکیم کا بن وصل نہیں علاج برہ کے سقیم کا جنت میں کب دے ہیں وہ رضوا...
غزل موسیٰ اگر جو دیکھے تجھ نور کا تماشا – ولی دکنی کی صوفیانہ غزل
موسیٰ اگر جو دیکھے تجھ نور کا تماشا اس کوں پہاڑ ہووے پھر طور کا تماشا اے رشک باغ جنت! تجھ ...
غزل پی کے ہوتے نہ کر توں مہ کی ثنا – ولی دکنی کی کلاسیکی غزل
پی کے ہوتے نہ کر توں مہ کی ثنا معتبر نہیں ہے حسن دور نما باعث نشہ دو بالا ہے حسن صورت کے س...