اشتہار
اشتہار
اشتہار
यह साइट जनाब अकबर शेख़ साहब
अकबर शेख़
के सम्मान में बनाई गई है
📖 उनके बारे में

📖 دیوانِ मुनतज़िम आसी

حروفِ تہجی کی ترتیب سے مکمل کلام

ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر ڑ ز ژ س ش ص ض ط ظ ع غ ف ق ک گ ل م ن ں و ہ ھ ء ی ے
حرف "ا" کا کلام (37)
نظم
سسرال کو جنت سا بیٹی تو بنا دینا | بیٹی کے نام ایک باپ کی نصیحت آموز نظم — منتظم عاصیؔ
سسرال کو جنت سا بیٹی تو بنا دینا بابا کی نصیحت کو ہر آن نبھا دینا تکلیف مصیبت کو ظاہر نہ ...
غزل
غزل: مجھ سے اب تک ہراس ہے کیا؟
مجھ سے اب تک ہراس ہے کیا اب بھی باقی بھڑاس ہے کیا بے خیالی میں نام لے لیا عشق کی یہ اساس ہ...
غزل
ہواؤں کو دھُکڑا سنانا پڑے گا — غزل کا ادبی و تنقیدی جائزہ
ہواؤں کو دھُکڑا سنانا پڑے گا کہیں چھپ کے آنسو بہانا پڑے گا ستم خیز تم نے کہا تھا کہ جاؤ می...
غزل
فوق النقاط — منتظم عاصیؔ کی فنی غزل
درد و غم دکھ الم نظر آنا رات دن تارے خم نظر آنا سامنے اس کے غم نہ کر ناصح عام ہے آنکھ نم ن...
غزل
منتظم عاصیؔ کی تضمینی غزل | کبھی دیار کبھی دار سے گزارا گیا
کبھی دیار کبھی دار سے گزارا گیا ”ضرورتوں کے سبب ہی ہمیں پکارا گیا“ تمہارے عیب چھپانے کے وا...
مرثیہ
بازارِ شام؟ نیزے پہ کیا کیا ظفر ملا – سلام و مرثیہ | شاعر منتظم عاصیؔ | محرم الحرام
بازارِ شام؟ نیزے پہ کیا کیا ظفر ملا قرآں ملا؟ رسول ملے؟ دیں کا سر ملا؟ تقسیم کر رہا ہے وہ ...
سلام
باخدا خدا کے دیں کے ہیں نا خدا شہیدِ کربلا – سلام و مرثیہ | شاعر منتظم عاصیؔ
باخدا خدا کے دیں کے ہیں نا خدا شہیدِ کربلا فاطمہ حسن علی نبی باوفا شہیدِ کربلا دیکھئے قدیم...
ہائیکو
منتظم عاصیؔ کا ہائیکو "سرد اخبار" | چائے کے کپ میں بھی ملک ڈوبا
سرد اخبار چائے کے کپ میں بھی ملک ڈوبا
ہائیکو
منتظم عاصیؔ کا ہائیکو "سورج ڈوبا" | مزدور کے پسینے، محنت اور زندگی کی تلخی کی علامت
سورج ڈوبا مزدور کے ماتھے سے نمک ٹپکا
ہائیکو
منتظم عاصیؔ کا ہائیکو "خالی مسجد" | سجدوں کی خوشبو میں رہتا خدا
خالی مسجد سجدوں کی خوشبو میں رہتا خدا
ادبِ اطفال
ننھا خواب
ننھا بچہ کھڑکی کے پاس بیٹھا بادلوں کو دیکھ رہا تھا وہ سوچتا تھا کاش میں بھی ایک پرندہ ہوتا...
غزل
خامہ اٹھا کے مذہبِ اسلام لکھ دیا
بر وقتِ موت آخری پیغام لکھ دیا میں نے تمام ظلم کو انعام لکھ دیا فرقت، وصال، درد، انا، اشک،...
منقبت
صبح و یاد آیا شام یاد آیا
صبح و یاد آیا شام یاد آیا عین، حا، میم، لام یاد آیا واقعہ بختِ حُر کا سنتے ہی لا محالہ غلا...
مرثیہ
افسوس کائنات کا ہالہ چلا گیا
افسوس کائنات کا ہالہ چلا گیا صحرا میں جلتا چھوڑ کے سایا چلا گیا بیٹوں کی آنکھ نم ہے تو روت...
غزل
وقتِ فرقت جو حال تھا کیا تھا
وقتِ فرقت جو حال تھا کیا تھا درد تھا یا جلال تھا کیا تھا طشت ازبام روشنی پھوٹی چہرہ تھا یا...
نظم
کوئی اپنا یہاں بھی ہے
کوئی اپنا یہاں بھی ہے کوئی اپنا وہاں بھی تھا اسی کی فکر رہتی ہے اسی کو ڈھونڈتا ہوں میں ابھ...
غزل
آپ کی آمد سے صحرا گلستاں بنتا گیا
بھائی بھائی لڑ پڑے زر کا نشاں بنتا گیا دھیرے دھیرے خود ہمارا گھر مکاں بنتا گیا جب مجھے دیک...
غزل
دیکھ کر جلبلا گئی ہو کیا
آگ پھر سے لگا گئی ہو کیا دل جلوں کو جلا گئی ہو کیا مسکراتا ہوا مرا چہرہ دیکھ کر جلبلا گئی ...
غزل
لیکن خیال و خواب پہ قبضہ ضرور تھا
مانا کہ بے رحم تھا بے عقبیٰ ضرور تھا پَر لب پہ اس کے آخری کلمہ ضرور تھا مدت سے دفن جتنی تھ...
قطعہ
منتظم عاصیؔ کا قطعہ ’’مزہ ہے کتنا کبھی آزما کے دیکھوں گا‘‘ — ہجر، جھوٹ، حسد اور محبت کی دنیا کا فکری جائزہ
مزہ ہے کتنا کبھی آزما کے دیکھوں گا کسی کے ہجر میں آنسو بہا کے دیکھوں گا مرے گا کون یہاں کو...
غزل
قبر میں آگیا ہوں پر دل جہاں تھا وہیں رہا — غزل از منتظم عاصیؔ
درد یکجا جہیں رہا میں تھا پاگل وہیں رہا میں اکیلا چلا گیا سب اثاثہ یہیں رہا ہوگئے دور رشتے...
غزل
اپنی انا کو بیچ کے غمگین ہوگیا
اپنی انا کو بیچ کے غمگین ہوگیا اک شخص جو امیر تھا مسکین ہوگیا سوتے رہے سکون سے ہمسائے بے خ...
قطعہ
منتظم عاصیؔ کا قطعہ ’’ابابیلیں اگر پھر لوٹ کر آئی تو کیا ہوگا‘‘ | خرد کی نئی زنجیر اور امید کی واپسی
ابابیلیں اگر پھر لوٹ کر آئی تو کیا ہوگا ذرا سا بھی زمیں دامن کو پھیلائی تو کیا ہوگا پریشاں...
غزل
اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ میں نے بھلا دیا
یادوں کے چلتے جو بھی تھا سب کچھ لٹا دیا اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ میں نے بھلا دیا تصویر بولتی...
غزل
جب کہ مانگی گئی دعا تنہا
دارِ فانی میں کون تھا تنہا میں تھا ہم تھے کہ تھا خدا تنہا کس نے آمین کہہ دیا اس پر جب کہ م...
قطعہ
منتظم عاصیؔ کا قطعہ "تیری تحقیر، نہ ستکار کیا جائے گا" | الزامِ محبت اور قربانی کی داستان
تیری تحقیر، نہ ستکار کیا جائے گا نذرِ زنداں، نہ تڑی پار کیا جائے گا تجھ پہ الزام محبت کا ل...
غزل
مقابلہ تو کرو وقت کے خداؤں کا
ملے گا کیسے کہاں کیا صلہ وفاؤں کا سلوک دیکھیں گے مقتل میں ہم نواؤں کا رجیم دیکھنا تسلیم ہا...
غزل
ہر کوئی شخص ضرورت سے سوا مانگے گا
جس کی فطرت میں ہے مکاری وہ کیا مانگے گا جان مانگے گا یا وہ ہم سے وفا مانگے گا اپنے ہم سائے...
غزل
اِکسیرِ عشق سودہ دلِ غمگسار کا
اِکسیرِ عشق سودہ دلِ غمگسار کا ”شامِ خزاں ہی نام ہے صبحِ بہار کا“ وُفُورِ ذوق عادَتِ تاخیر...
قطعہ
منتظم عاصیؔ کا کلام ’’ردائے درد بدن پر میں ڈال کر آیا‘‘ | ادب کے پیڑ کی آبیاری اور رزقِ سخن کی خودداری
ردائے درد بدن پر میں ڈال کر آیا لہو نچوڑ کے لفظوں کا ساتھ میں لایا ادب کے پیڑ کی کرتا ہوں ...
غزل
موت آئی فسانہ ختم ہوا
داغِ فرقت مٹا، نہ ختم ہوا موت آئی فسانہ ختم ہوا کی طبیبوں نے مل کے خوب مگر دردِ دل با خدا ...
غزل
جب بھی آئے گا بلانا میں چلا جاؤں گا
دیکھتا رہ گا زمانہ میں چلا جاؤں گا جب بھی آئے گا بلانا میں چلا جاؤں گا مسکراتے ہوئے محفل س...
غزل
غزل — ہجر، وفا اور نامرادی کی کیفیات | منتظم عاصیؔ
اس کو وصالِ ذائقہ حاصل نہیں ہوا جس پر عذاب ہجر کا نازل نہیں ہوا سب تین مٹھی ڈال کے گھر کو ...
منقبت
قائم کریں گے مہدی اطاعت مرے خدا
حجت تمام دیں کی اقامت مرے خدا قائم کریں گے مہدی اطاعت مرے خدا آواز جب امامِ زمانہ لگائیں گ...
طنز و مزاح
بیگم کا ساتھ جتنا تھا سارا عذاب تھا
بیگم کا ساتھ جتنا تھا سارا عذاب تھا سچ پوچھئے عذاب وہی بے حساب تھا بیلن کو دیکھ ہاتھوں میں...
حمد
منتظم عاصیؔ کی حمدِ باری تعالیٰ ’’کھول کر آسماں مرے مولا‘‘ — غیر منقوط حمد میں توحید، علم، عمل اور روحانی بیداری کا بیان
کھول کر آسماں مرے مولا دور کردے گماں مرے مولا روحِ صحرا رواں دواں ہے ہمہ دل کو کردے رواں م...
منقبت
نقش بن کر علی کے پاؤں کا
نقش بن کر علی کے پاؤں کا آگیا رعب نا خداؤں کا سارے گیدڑ دُبک کے بیٹھے ہیں آیا ہے شیر سورما...
साहित्यिक AI सहायक
● ऑनलाइन